ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں موگیر طبقے کا شمار گروپ -1میں کئے جانے پر سخت ناراضگی : حکومت کے گھر گھر پہنچائےجانےوالی دستاویزات اسکیم پر سخت اعتراض

بھٹکل میں موگیر طبقے کا شمار گروپ -1میں کئے جانے پر سخت ناراضگی : حکومت کے گھر گھر پہنچائےجانےوالی دستاویزات اسکیم پر سخت اعتراض

Mon, 14 Mar 2022 18:59:02    S.O. News Service

بھٹکل :14؍ مارچ  (ایس اؤ نیوز) حکومت کی طرف سے دی جارہی دستاویزات کو لے کر تعلقہ بھر میں ماہی گیر طبقے سے تعلق رکھنے والے موگیر ذات کے لوگ تحصیلدار دفتر پہنچ کر اپنی  سخت ناراضگی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جارہی ذات سرٹیفکیٹ واپس لی جائے اور اگر متعلقہ دستاویزات ہم تک پہنچاناہی ہے تو سرٹیفکیٹ میں گروپ-1کے بجائے ہماری ذات کو پسماندہ ذات درج کرکے سرٹی فیکٹ پہنچائیں۔

ریاستی سطح پر محکمہ روینیو کی جانب سے کاسٹ، انکم جیسی دیگر دستاویزات کو پرنٹ کرنےکے بعد گھر گھر پہنچانے کا انتظام کیاگیا ہے۔ بھٹکل تعلقہ میں بھی گرام پنچایت سطح پر دستاویزات  روینیو انسپکٹراورولیج اکاؤنٹنٹ کے ذریعے گھر گھر پہنچائےجارہے ہیں۔ بھٹکل تعلقہ کا ماہی گیر طبقہ اس بات کو لے کر سخت ناراض ہے کہ انہیں اس سے پہلے تک پسماندہ ذات کی سرٹیفکیٹ دی جارہی  تھی لیکن  گذشتہ چند سالوں سے ذات کی سند لینےمیں کافی دشواریاں  پیدا کی گئی ہیں معاملے کو لےکر مختلف عدالتوں میں بحث جاری ہے،ایسے میں بنگلورو سے آئی ہوئی ذات سرٹیفکیٹ میں موگیر طبقہ کو گروپ ۔1درج  کیاگیا ہے اور گروپ ون کی سرٹی فیکٹ کو گھر گھر پہنچایا جارہا ہے جس پر موگیر طبقہ نے سخت اعتراض اُٹھایا ہے۔ پتہ  چلا ہے کہ  کئی گھروں تک پہنچائی گئی روینیو محکمہ کی ذات  سرٹیفکیٹ کو موگیر کے لوگوں نے واپس محکمہ کولوٹاتے ہوئے اپنی برہمی کا اظہارکیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہم اپنی ذات کے معاملے کو لےکر عدالتوں میں جیت حاصل کرچکے ہیں۔ اب حکومت کی جانب سے ہمیں اچانک گروپ-1 میں شمار کیاجانا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے تمام دستاویزات واپس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان دستاویزات کو قبول نہیں کرے گا۔

کیا کہتے ہیں بوٹ یونین صدر شری دھر موگیر : ہم یعنی موگیر طبقہ گذشتہ 10-20برسوں سے قانونی طورپر پسماندہ ذات کی سند لیتے رہے ہیں، اب اس راہ میں دشواریاں پیدا کی گئی ہیں۔ ہمارے طبقہ کی جانب سے مختلف عدالتوں میں شکایت درج کی گئی تھی اور فیصلہ ہمارے حق میں صادر ہوچکا ہے۔ جب تک عدالت کا حتمی فیصلہ سنایانہیں جائے گا ہم میں سےکوئی بھی ان دستاویزات کو قبول نہیں کرے گا۔

اے سی کا بیان : بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی نے معاملے کے تعلق سے بتایا کہ محکمہ روینیو کی جانب سے ریاستی سطح پر سبھی قسم کی دستاویزات کو پرنٹ کرکے ہمیں ارسال کیاجاتاہے۔ ہم انہی دستاویزات کو گھر گھر پہنچاتے ہیں۔ چند لوگوں نے ٹیلفون پررابطہ کرتےہوئے ذات سرٹیفکیٹ کےمتعلق اعتراض جتایا ہے ۔ اس سلسلےمیں ہم نے اعلیٰ افسران تک بات پہنچائی ہے۔ وہیں سے اس کا حل تلاش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ  ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ’’کسانوں کے گھر روینیو دستاویزات‘‘نامی پروگرام شرالی کے چتراپور میں منعقد ہواتھا  جس کا افتتاح  بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی نےکیاتھا اور وہاں اے سی نے کہاتھا کہ کسانوں کو دفاتر کے چکر کاٹ کر اپنا وقت ضائع ہونے سے بچانے کےلئے حکومت نے اس خصوصی اسکیم کو جاری کیا ہے اب کاسٹ اور انکم سمیت دیگر دستاویزات گھر گھر پہنچائے جائیں گے۔ ہمارے تعلقہ کو بھی حکومت کی طرف سے ہرایک دستاویزکی پرنٹ  پہنچ گئی ہے اورہم نے انہی دستاویزات کو تعلقہ کے ہر فرد کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔ پروگرام میں تحصیلدار سُمنت، تعلقہ پنچایت افسر پربھاکر چکنمنے ، شرالی گرام پنچایت نائب صدر بھاسکر دئیمنے وغیرہ موجود تھے۔ ماولی کے روینیو انسپکٹر شری نواس ماستی اور محکمہ روینیو نے پروگرام کے انتظامات کئے تھے۔


Share: